Biography


Syed Abul Ala Maudoodi (Left) being presented with the 1st King Faisal Prize for his service to Islam by HRH Prince Mohammed bin Faisal Al Saud (Right).
         
سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ چشتی کی سوانح حیات
ان کے اپنے قلم سے
 
          والد مرحوم کے نانا کا نام محسن الدولہ نواب احمد مرزا خان تھا۔غدر 1857؁ء  میں ان کو پھانسی دی گئی۔  چشت میں سلسلہ چشتیہ کی ابتداء حضرت ابو اسحاق شامی سے ہوئی جو سب سے پہلے چشت میں آکر مقیم ہوئے ۔ ان کے مرید حضرت ابو احمد ابدال چشتی ہوئے جو رمضان 260 ہجری میں المعتصم باللہ کے عہد خلافت میں پیدا ہوئے تھے ۔ 355ہجری میں وفات پائی ۔ ان کے بیٹے اور مرید خواجہ ابومحمد چشتی محمود غزنوی کے ہم عصر تھے اور ہندستان کے جہاد میں شریک تھے ۔بعض تذکروں میں لکھا ہے کہ محمود آپ کا مرید بھی تھا ۔ آپ نے 421 ہجری میں وفات پائی ۔ان سے یہ سلسلہ حضرت ناصرالدین ابو یوسف چشتی کو پہنچا جو خواجہ چشتی کے بھانجے اور خلیفہ تھے ۔
          خواجہ ابو یوسف چشتی اپنی والد ہ ماجدہ کی طرف سے حسنی تھے اور سلسلہ نسب حضرت سید حسن مثنیٰ ابن امام حسن علیہ السلام ، تک پہنچتا تھا اور والد کی طرف سے بواسطہ امام علی تقی علیہ السلام امام حسین علیہ السلام تک پہنچتا تھا ۔459ہجری میں آپ نے وفات پائی ۔
          پھر یہ سلسلہ حضرت خواجہ قطب الدین مودودچشتی کو پہنچا جو خواجہ ابو یوسف چشتی کے صاحبزادے اور خلیفہ تھے ۔ حضرت خواجہ مودود نے دو کتابیں منہاج العارفین اور خلاصۃ الشریعت تصنیف فرمائی تھیں جو اب ناپید ہیں۔ 527 ہجری میں بعد سلطان سنجرین ملک شاہ آپ نے وفات پائی ۔97 سال کا سن تھا ۔
          خاندان مودودیہ کی جس شاخ سے میر ا تعلق ہے اس کے سب سے پہلے برزگ جو ہندستان آ ئے ان کا اسم گرامی خواجہ مودود ثانی تھا جو 6 واسطوں سے حضرت خواجہ قطب الدین مودودچشتی کی اولاد میں سے تھے ان کے بیٹے حضرت خواجہ علی نے پانی پت کے قریب موضع سرنامی میں قیام کیا۔ان کے بیٹے حضرت شاہ خواجگی پھر چشت واپس تشریف لے گئے۔ وہاں شاہ خراساں نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے کردی جن کے  بطن سے 869ہجری میں حضرت ابوالاعلیٰ مودودی پیدا ہوئے۔سن رشد کو پہنچنے کے بعد حضرت ابوالاعلیٰ ہندستان تشریف لائے ۔ یہ سکندر لودھی کا زمانہ تھا اور سکندر اس زمانہ میں راجہ نرورسے جنگ میں مشغول تھا ۔ آپ اس لڑائی میں شریک ہوئے اور آپ ہی کے تیرے سے راجہ مارا گیا۔اس پر سکندر لودھی نے قصبہ براس مع 12گاؤں آپ کی جاگیر میں دئیے۔ 935ہجری میں آپ نے وفات پائی۔
          حضرت ابوالاعلٰی مودودیؒ کی اولاد میں خواجہ کرم الہٰی پہلے شخص تھے جن کا تعلق دہلی سے ہوا ۔ کیونکہ ان کی شادی دہلی کے ایک شیخ طریقت شاہ محمد امان صاحب کی بیٹی سے ہوئی تھی ۔ سید کرم الہٰی کے بیٹے سید وارث علی شاہ صاحب کی شادی خواجہ نقشبند عرف خواجہ نتھو کی صاحبزادی سے ہوئی جو نواب فیض اللہ بیگ خان بہادر عارف جنگ والی علاقہ میوات کی نواسی تھیں۔ خواجہ وارث علی کے صاحبزادے سید حسن صاحب مودودی ہوئے، جن کی شادی محسن الدولہ احمد مرزا خان کی صاحبزادی سے ہوئی ۔حضرت سید حسن صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے سید احمد حسن صاحب میرےوالد بزرگوار تھے۔ والدمرحوم غدر 57ہجری سے تقریباً دو  سال پہلے پیدا ہوئے تھے ۔ سر سید احمدخاں قریبی رشتہ سے والد مرحوم کے ماموں ہوتے تھے۔ جب سر سید نے علی گڑھ میں مدرسہ کی بنیاد رکھی تو سب سے پہلے جن لڑکوں کو انہوں نے اپنے اثر سے مدرسے میں داخل کرنے کے لئے تیار کیاتھا، ان میں سے ایک میرے والد بھی تھے ۔ان کے دوسرے ساتھیوں میں سر محمد رفیق اور سر بلند جنگ کے داماد وغیر ہ تھے ۔ والدمرحوم علی گڑھ میں صرف ا یف اے تک پڑھ سکے ۔ اس کے بعد علی گڑھ کی تعلیم انہوں نے چھوڑ دی اور الہ آباد جا کر وکالت کی تعلیم حاصل کی جس کے لئے اس زمانہ میں گریجویٹٖ ہونا شرط نہ تھا ۔ الہ آباد سے وکالت کی سند لے کر انہوں نے غازی آباد، میرٹھ ، بلند شہروغیرہ مختلف مقامات پر پریکٹس کی ۔ کچھ مدت تک راجپوتانہ کی ریاست دیو گڑھ میں ولی عہد کے اتالیق بھی رہے ۔ انیسوی صدی عیسوی کے آخر زمانہ میں (غالباً 1894؁ء میں لگ بھگ) حید ر آباد تشریف لے گئے اور کچھ مدت حید ر آباد میں پریکٹس کرنے کے بعد آخر کار  اورنگ آباد دکن میں مستقل طور پر رہ پڑے۔
          والد مرحوم اورنگ آبا د کے ابتدائی دور تک بالکل انگریزی وضع قطع کے پابند تھے اور دین سے قریب قریب وہی تغافل اُن کے اندر پایا جاتا تھا جو علی گڑھ کی تعلیم کا خاسہ تھا حتیٰ کہ شرب خمراور دوسری کبائر تک میں مبتلاہوگئے تھے۔ صوم و صلٰوۃ کے پابند نہ تھے اورکسب میں حرام و حلال کی تمیز نہ کرتے تھے ۔ اورنگ آباد پہنچ کر انہیں مولوی محی الدین خان کی صحبت نصیب ہوئی جو اس وقت اورنگ آباد میں سیشن جج تھے ۔ یہ صاحب مولوی رشید الدین خان صاحب کے صاحبزادے تھے اور مولوی رشیدالدین خان وہی برزگ ہیں جن کے شاگرد مولوی ملوک علی صاحب سے مولوی احمد علی سہارنپوری ، مولوی محمد قاسم نانوتوی، مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی محمد یعقوب صاحب (اولین صدر دارلعلوم دیوبند)جیسے لوگوں کو شرف تلمند حاصل تھا ۔
          اِن مولوی محی الدین خان صاحب کی صحبت سے والد مرحوم پر بتدریج مذہبی رنگ چڑھنا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ کبائر سے توبہ کی۔ انگریزی وضع قطع چھوڑ دی چہرے پر داڑھی آئی ۔ صوم صلٰوۃ کی پابندی کے ساتھ طویل مناجات اور گریہ و زاری تک نوبت پہنچی اور کسب میں حرام و حلال کا فرق کھٹکنے لگا ۔ یہی زمانہ تھا جب ستمبر 1903؁ء مطابق رجب 1321ہجری میں میں پیداہوا میری ولادت کے چھ ماہ بعد والد مرحوم اپنے وکالت کے پیشے سے ایسے دل برداشتہ ہوئے کہ یکایک اسے ترک کردیا ۔ وکالت کے زمانہ میں جو کچھ کمایا تھا اسے سے بھی قریب قریب دستبردار ہوگئے اور دہلی جاکر ہمایوں کے مقبرہ کے قریب ایک گاؤں میں فقیرانہ زندگی بسرکرنے لگے جس کو!!  عرب سرائے!! کہتے تھے۔معلوم نہیں کہ اب بھی اس مقام کا کا یہ نام معروف ہے یا نہیں۔